نالے کی صفائی کرنے والے مزدوروں کو اربوں روپے مالیت کا ایک بہت بڑا خزانہ ملا، جس میں درجنوں سونے کی سلاخیں اور نایاب سکے شامل تھے۔
مشہور کہاوت ’’جب اللہ دیتا ہے تو چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے‘‘ ان مزدوروں کے لیے سچ ثابت ہو گئی، جو تعمیراتی کام کے لیے ایک نالے کی صفائی کر رہے تھے۔ کام کے دوران انہیں وہاں درجنوں سونے کی سلاخیں اور نایاب سکے ملے، جن کی اندازاً مالیت تقریباً 3 ارب پاکستانی روپے بتائی گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، یہ خزانہ بیلجیم میں ایک تعمیراتی مقام سے دریافت ہوا، جس پر وہاں موجود مزدور اور آنے والے لوگ دونوں حیران رہ گئے۔
رپورٹ کے مطابق، برسلز کے ڈینڈرمونڈ علاقے میں ایک عمارت کی تزئین و مرمت کا کام جاری تھا۔ کام کے دوران مزدور صفائی کرنے کے لیے ایک نالی میں داخل ہوئے، جہاں انہیں کچھ نایاب سکے ملے۔
مزید کھدائی اور کام کے دوران مزید سکے بھی ملے، جس سے وہاں موجود سب لوگ حیران رہ گئے۔ صفائی کے لیے مزید کھدائی کرتے ہوئے مزدوروں کو سونے کی 49 سلاخیں، سونے کے سکوں سے بھری ایک بالٹی اور سینکڑوں نایاب سکے ملے۔
اتنی بڑی مقدار میں قیمتی خزانہ ملنے کے بعد تعمیراتی مقام کے حکام نے فوری طور پر مقامی پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس نے اس خزانے کو اپنی تحویل میں لے لیا اور اسے سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ حکومت کی ایک انتہائی محفوظ جگہ پر منتقل کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق، جس عمارت کے قریب یہ خزانہ ملا تھا، اس کا تعلق CAW East Flanders نامی ایک فلاحی ادارے سے ہے۔
حکام اب اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ اتنی بڑی مقدار میں سونا اور نایاب سکے نالے کے نیچے موجود جگہ تک کیسے پہنچے اور ان کا تعلق کس دور یا کس شخص سے ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا، جائے وقوعہ کے اردگرد حفاظتی باڑ لگا دی گئی ہے اور اضافی سکیورٹی اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ مزید خزانہ تلاش کرنے کے لیے لوگوں کو وہاں آنے اور کھدائی کرنے سے روکنے کے لیے غیر مجاز داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔