امریکا میں اگست کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے صارفین کی مہنگائی بڑھنے کا امکان ہے، جس سے اگلے ہفتے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے ماہرینِ اقتصادیات کے ایک سروے کے مطابق، اگست میں امریکا کا کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) 0.4 فیصد بڑھ سکتا ہے، جبکہ جولائی میں اس میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح 3.4 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو جولائی کے برابر ہے۔
مہنگائی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ پٹرول کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق، اگست میں پٹرول کی اوسط قیمت 4.192 ڈالر فی گیلن رہی، جبکہ جولائی میں یہ قیمت 4.064 ڈالر فی گیلن تھی۔
ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکا میں مہنگائی کا دباؤ جاری رہ سکتا ہے کیونکہ تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا رہی ہیں۔ درآمدی اشیا پر عائد ٹیرف بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، جمعرات کو جاری ہونے والے پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) کے کچھ اہم اعداد و شمار پہلے ہی مہنگائی کے مسلسل دباؤ کی نشاندہی کر چکے تھے۔
جمعے کو جاری ہونے والے CPI کے اعداد و شمار اب فیڈرل ریزرو کے اگلے فیصلے کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اسی دوران، پٹرول اور کھانے پینے کی اشیا کی بلند قیمتوں پر امریکی عوام کی بڑھتی ہوئی تشویش صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی کے باعث ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ توانائی کی بلند قیمتوں اور درآمدی ٹیرف کے اثرات توقع سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں امریکی معیشت پر مہنگائی کا دباؤ جلد ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔