اسلام آباد: پاکستانی حکام نے جمعہ کے روز کہا کہ افغانستان کی طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کو پناہ، مدد اور تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق، دستیاب دستاویزی شواہد کابل کی جانب سے بار بار کیے جانے والے انکار کو غلط ثابت کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ افغان سرزمین سے ایک مضبوط دہشت گرد نیٹ ورک سرگرم ہے۔
سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ پاکستان میں حملوں کے دوران ہلاک ہونے والے 260 افغان شدت پسندوں کی شناخت کی تصدیق کر لی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، سرکاری ریکارڈ میں ان افراد کے نام، پتے اور ان کے خاندان سے متعلق معلومات بھی شامل تھیں۔
حکام کے مطابق، اس تعداد میں ان نامعلوم دہشت گردوں کو شامل نہیں کیا گیا جو اس وقت پاکستان میں سرگرم ہیں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ رپورٹ کی گئی ہلاکتوں کی تعداد ممکنہ طور پر سرحد پار دہشت گردی میں ملوث افغان شہریوں کی مجموعی تعداد اور ان کے کردار کی صرف ایک محدود عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے پاکستان میں مارے گئے افغان دہشت گردوں کی نمازِ جنازہ اور تدفین کا بھی ذکر کیا، جو ان کے آبائی علاقوں میں طالبان حکومت کے حکام کی موجودگی میں منعقد ہوئیں۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ جو انتظامیہ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے دہشت گردوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، وہ یہ وضاحت نہیں کر سکتی کہ اس کے حکام ان دہشت گردوں کی نمازِ جنازہ میں کیوں شریک ہوتے ہیں جو پاکستان پر حملے کے دوران مارے گئے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس دہشت گرد نیٹ ورک میں صرف دہشت گردوں کا سرحد پار سے آنا شامل نہیں تھا بلکہ ان کی تربیت، ہتھیاروں کی فراہمی اور کارروائیوں کے لیے مدد بھی اس کا حصہ تھی۔
سکیورٹی حکام کے اندازے کے مطابق پاکستان میں داخل ہونے والے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں میں سے 70 فیصد تک افغانستان سے آئے تھے۔ سکیورٹی حکام نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ طالبان حکومت نے امریکہ اور نیٹو کی جانب سے افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیار دہشت گرد گروہوں تک پہنچنے کی اجازت دی۔ ان گروہوں میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان بھی شامل ہیں۔
پاکستانی حکام نے بتایا کہ شدت پسندوں سے برآمد کیے گئے ہتھیاروں اور فوجی سامان میں M4 اسالٹ رائفلیں، ریمنگٹن اسنائپر رائفلیں اور رات میں دیکھنے کے لیے استعمال ہونے والے نائٹ ویژن آلات شامل تھے۔
سکیورٹی اداروں نے حملوں میں اضافے کو افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے بھی جوڑا۔
پاکستانی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، صرف 2026 میں افغانستان کی سرزمین سے منسلک دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں 1,327 پاکستانی جاں بحق ہوئے، جبکہ مزید 2,484 افراد زخمی ہوئے۔
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق افغانستان میں تقریباً 6,000 سے 6,500 تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد موجود تھے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق 2025 میں پاکستان کے خلاف 600 سے زیادہ دہشت گرد حملے بھی ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے بعض حملے افغان سرزمین سے کیے گئے تھے۔
پاکستانی سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے افغانستان کے صوبوں کنڑ، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں تربیتی مراکز قائم کر رکھے ہیں۔
حکام نے مزید دعویٰ کیا کہ افغان طالبان حکومت سے وابستہ ارکان بھی ان میں سے بعض تربیتی مراکز میں دہشت گرد گروہ میں شامل ہو رہے ہیں۔ حکام کے مطابق، ان ارکان کی دہشت گرد گروہ میں شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ طالبان سے وابستہ عناصر اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے درمیان فرق کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
پاکستان نے بار بار طالبان حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی، حالانکہ پاکستان نے ان پناہ گاہوں کے مقامات اور وہاں ہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات بھی فراہم کی ہیں۔
حکام نے کہا کہ جب بھی پاکستانی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، طالبان حکومت نے دہشت گرد گروہوں اور ان کے اڈوں کو ختم کرنے کے بجائے ان عناصر اور ان کے ٹھکانوں کو تحفظ دینے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ صرف تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) تک محدود نہیں تھا۔
اقوام متحدہ کی مختلف جائزہ رپورٹس میں افغانستان میں کئی شدت پسند گروہوں کی موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں القاعدہ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) اور اسلامک اسٹیٹ خراسان (IS-K) شامل ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق افغانستان میں موجود ان گروہوں کی سرگرمیوں نے وہاں سے کام کرنے والے وسیع تر شدت پسند نیٹ ورک کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان گروہوں کی مسلسل موجودگی، تربیتی کیمپوں کا قیام، سرحد پار دراندازی اور جدید ہتھیاروں تک رسائی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان اب بھی دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے ایک اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ ان سرگرمیوں سے پاکستان کی سلامتی کو مسلسل خطرہ لاحق ہے۔
اسلام آباد نے طالبان کی اس یقین دہانی کو مسترد کر دیا ہے کہ افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ زمینی صورتحال اور شدت پسندوں کی مبینہ سرگرمیاں اس کے برعکس صورتحال کی نشاندہی کرتی ہیں۔
حکام کے مطابق، پاکستان کا مؤقف ہے کہ کابل کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے، تربیتی مراکز بند کرنے، سرحد پار سے ہونے والی دراندازی روکنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے واضح اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملے کرنے کے لیے استعمال نہ ہو۔
حکومت نے کہا ہے کہ یہ معاملہ بنیادی طور پر پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق ہے۔ حکومت کے مطابق، افغان سرزمین سے ہونے والے مسلسل حملوں کو صرف انکار کرنے یا ان حملوں کی تردید کرنے سے حل نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان نے کہا کہ اسے توقع ہے کہ طالبان حکومت اپنی سرزمین سے کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے گی، بجائے اس کے کہ وہ ان گروہوں کی موجودگی کا دفاع کرے یا اس سے انکار کرے۔