خیبر پختونخوا (کے پی) میں خواجہ سرا افراد کو تشدد، قتل اور دیگر سماجی مسائل کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر صوبائی پولیس نے صوبے بھر کے پولیس سہولت مراکز میں خواجہ سرا برادری کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیبر پختونخوا (کے پی) میں خواجہ سرا افراد کو تشدد، قتل اور دیگر سماجی مسائل کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر صوبائی پولیس نے صوبے بھر کے پولیس سہولت مراکز میں خواجہ سرا برادری کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے باعث عدم مساوات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ناقابلِ تردید شواہد افغان سرزمین کو پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سے جوڑتے ہیں۔
عوام کی یادداشت یہ نہیں بھولے گی کہ ’’جارحیت کی جنگ‘‘ کس نے شروع کی: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان
علیمہ کے بعد نورین نیازی اور عظمٰی خان کو بھی 30 دن کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔