مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور مصنوعی ذہانت اقوامِ متحدہ کے عالمی رہنماؤں کے اجلاس میں چھائی رہے گی۔

مشرقِ وسطیٰ، یوکرین اور سوڈان میں جاری تنازعات کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی پیش رفت پر تشویش کے درمیان، دنیا بھر کے رہنما اقوامِ متحدہ کی اہم سفارتی تقریب میں شرکت کے لیے منگل سے نیویارک میں جمع ہوں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ اور اس کے عالمی اثرات اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کی اہم توجہ کا مرکز رہنے کی توقع ہے۔

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اتحادی ممالک پر زور دیں گے کہ وہ یوکرین کی دفاعی ضروریات پر توجہ برقرار رکھیں، جبکہ روس توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں کا جواب دے رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اجلاس سے قبل کہا، "جب ہم روس اور یوکرین کی جنگ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو دیکھتے ہیں تو حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید خراب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ کہیں بھی واضح بہتری دکھائی نہیں دے رہی، اور صورتحال کی مسلسل خرابی دنیا کو کسی بڑے تنازعے میں خطرناک حد تک اضافے کے سنگین خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔"

مصنوعی ذہانت عالمی سطح پر ایک اہم موضوع رہے گی، کیونکہ ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب سے انسانیت کو درپیش ممکنہ خطرات پر خبردار کیے جانے کے بعد اس کے خدشات مسلسل خبروں میں ہیں۔

مسئلے پر غور کرنے کے لیے سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

نکولس میاہلے، جو اے آئی گورننس کے ماہر اور اے آئی سیفٹی کنیکٹ کے شریک بانی ہیں، نے کہا کہ اس سال کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اے آئی سیفٹی کے لیے ایک واضح منصوبہ بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔ اس میں صنعت سے عالمی توقعات اور نگرانی کی ذمہ داری طے کرنا شامل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج منصوبے پر اتفاق اور اسے عملی شکل دینا ہوگا۔

امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی مصنوعی ذہانت (AI) کی مسابقت کے دوران، گوٹیرس نے عالمی تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا ایسی دوڑ کی متحمل نہیں ہو سکتی جس سے AI کے حفاظتی معیار کم ہوں۔

بند کمرے میں ہونے والی ملاقات میں دنیا کی بڑی طاقتیں اقوام متحدہ کے مستقبل پر بھی بات کریں گی اور تنظیم کے لیے نئے سربراہ کے انتخاب پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گی۔ اقوام متحدہ اس وقت گہری تقسیم اور سنگین مالی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ کسی بڑے معاہدے کی توقع نہیں ہے، تاہم برطانیہ، فرانس، روس، چین اور امریکا، جنہیں ویٹو کا اختیار حاصل ہے، اس اجلاس کو کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

گوتریس کی دوسری پانچ سالہ مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو جائے گی۔ ان کے دور میں دنیا نے بڑھتے ہوئے عالمی تنازعات، کووڈ-19 وبا، بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات اور سیاسی تقسیم جیسے اہم مسائل کا سامنا کیا۔

ایک یورپی سفارت کار نے کہا کہ اب تک انتخاب کا عمل زیادہ کامیاب نہیں رہا، کیونکہ کسی واضح اتفاقِ رائے کی صورت سامنے نہیں آ رہی۔

وجودی خطرات

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع ایک بار پھر عالمی رہنماؤں کے لیے بڑا مسئلہ بنے گا، کیونکہ غزہ میں امن کا عمل اب بھی غیر یقینی ہے اور اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی بستیوں کی توسیع جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے نیویارک کے مختصر دورے کی توقع ہے، کیونکہ میئر زوہران ممدانی نے کہا ہے کہ وہ قانونی طور پر ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے گرفتاری وارنٹ پر عمل درآمد نہیں کرا سکتے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے مسلسل دوسرے سال بھی فلسطینی صدر محمود عباس اور دیگر فلسطینی رہنماؤں کو امریکی ویزے دینے سے انکار کر دیا ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ سفارتی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے بلکہ اس کے بجائے براہِ راست واشنگٹن جائیں گے، جہاں وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ سرکاری دورے پر ملاقات کریں گے۔

چین کی جانب سے روس اور ایران کی حمایت اجلاس میں زیرِ بحث آنے والے مشکل موضوعات میں شامل ہو سکتی ہے۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے ڈینیئل فورٹی کے مطابق، چین روایتی طور پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی ہفتے کو امریکی قیادت والا پلیٹ فارم سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں چینی سفارت کار چین کو واشنگٹن کے مقابلے میں ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم شی جن پنگ کو یہ مؤقف ظاہر کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی ضرورت نہیں ہے۔

دنیا بھر میں گرمی کے ریکارڈ مسلسل ٹوٹ رہے ہیں اور شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گوتریس اپنی مدتِ عہدہ کے دوران کی طرح آئندہ بھی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مزید مضبوط اقدامات کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔

وہ موسمیاتی اقدامات اور منصفانہ منتقلی کے موضوع پر ایک اجلاس منعقد کریں گے، جس کے بعد ایک دن بڑھتی ہوئی سمندری سطح پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جو نشیبی جزیرہ نما ممالک کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

توقع ہے کہ مصنوعی ذہانت کے موسمیاتی اور ماحولیاتی اثرات، اس کے ممکنہ فوائد کے ساتھ، اقوام متحدہ اور نیویارک میں ہونے والی کلائمیٹ ویک کے اہم موضوعات میں شامل ہوں گے۔ یہ سالانہ تقریب ماحولیاتی کارکنوں، کاروباری اداروں اور ماہرینِ تعلیم کو ایک جگہ جمع کرتی ہے، جہاں وہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔

X