اسلام آباد: سپریم کورٹ نے منگل کے روز حکم دیا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اگلے چند دنوں کے علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ عدالت نے حکومت کو یہ ہدایت بھی دی کہ عمران خان اور ان کے اہل خانہ کے درمیان ہفتہ وار ملاقاتوں کا انتظام کیا جائے۔

یہ سماعت ایک میڈیکل بورڈ کی رپورٹ اور اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے بعد ہوئی۔ دونوں رپورٹس پیر کے روز سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تھیں۔ رپورٹس میں عمران خان، ان کے قریبی اہل خانہ اور ان کی اہلیہ کے درمیان زیادہ باقاعدگی سے ملاقاتوں کی سفارش کی گئی تاکہ ان کے بلڈ پریشر اور بے چینی کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکے۔ رپورٹس میں سابق وزیر اعظم کے بلڈ پریشر کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عمران کی اپنی بہنوں اور ذاتی ڈاکٹروں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ان کے طبی ریکارڈ تک رسائی سے متعلق مقدمات کی سماعت کی۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ عمران کے ذاتی ڈاکٹر، ڈاکٹر فیصل سلطان کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر، جنرل فزیشن، ماہر امراض قلب اور ڈاکٹر فیصل سلطان پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔

عدالت کے حکم کے مطابق ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ بھی نئے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ کا حصہ ہوں گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ عمران کے ہسپتال میں علاج کے اخراجات ان کا خاندان ادا کرے گا۔

عدالت نے عمران کے خاندان اور وکلا کو یہ بھی ہدایت دی کہ ان کی میڈیکل رپورٹ میڈیا کو فراہم نہ کی جائے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے حکم دیا کہ یہ رپورٹ مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے۔


X