پشاور: خیبر پختونخوا کے گورنر کی مشیر برائے اطلاعات، تعلقاتِ عامہ، ریلیف، بحالی اور آبادکاری ثمر ہارون بلور نے مالی سال 2024-25 کے لیے جاری کردہ آڈٹ رپورٹ میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں، سرکاری رقوم کے حساب کتاب میں غلطیوں اور مالی معاملات میں پائی جانے والی بے قاعدگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے
اپنے پریس بیان میں انہوں نے بتایا کہ 72 ارب 46 کروڑ روپے کے اخراجات کا مکمل آڈٹ نہیں کیا جا سکا، جبکہ 104 ارب 26 کروڑ روپے کے اضافی اخراجات بھی سامنے آئے، جو صوبائی اسمبلی کی جانب سے منظور کیے گئے بجٹ سے زیادہ تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ترقیاتی اخراجات کی مد میں خرچ ہونے والے 153.68 ارب روپے غلط طور پر مختلف کھاتوں میں درج کیے گئے تھے، جبکہ پبلک اکاؤنٹ میں 39.58 ارب روپے کا منفی بیلنس ریکارڈ کیا گیا تھا۔
بلور نے مزید بتایا کہ بیرونی قرضوں سے متعلق 98.89 ارب روپے کے ریکارڈ مکمل نہیں تھے، جبکہ غیر ملکی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگیوں کے لیے خرچ کیے گئے 51.85 ارب روپے کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت کے اندرونی قرضوں کا ریکارڈ 2017-18 کے بعد سے اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا تھا، جبکہ وفاقی حکومت کے قرضوں کا ریکارڈ 2013-14 سے نامکمل تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی بجٹ اور اہم محکموں، جن میں صحت، تعلیم، پولیس اور ہائی ویز کے محکمے شامل ہیں، میں بھی مزید بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
انہوں نے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی پیسہ قوم کی ملکیت ہے اور اگر کسی قسم کی بدعنوانی سامنے آئے تو اس کے ذمہ دار افراد کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے جو اس رقم کے انتظام کے ذمہ دار ہیں۔
دریں اثنا، ثمر ہارون بلور نے محکمہ ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے امور کی باضابطہ طور پر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے گورنر کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں یہ اہم عہدہ سنبھالنے اور اس کی ذمہ داریاں نبھانے کا موقع دیا۔