اسلام آباد: ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی جانب سے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے حوالے سے دی گئی تجویز کے جواب میں اپنا جواب ارسال کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، محمود خان اچکزئی نے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے حوالے سے وزیراعظم کو خط بھیجا ہے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر کو اب وزیراعظم کی جانب سے اپنے خط کا جواب موصول ہو گیا ہے۔
دریں اثنا، رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے نئے چیف الیکشن کمشنر (CEC) کی تقرری پر مشاورت کے لیے محمود خان اچکزئی کو دعوت دے کر مذاکرات کی راہ ہموار کر دی تھی۔
اپوزیشن لیڈر نے ابھی تک دعوت کا جواب نہیں دیا۔
اس اقدام کے وقت نے بھی توجہ حاصل کی کیونکہ یہ دعوت نامہ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کی قیادت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ سے صرف چند روز پہلے بھیجا گیا تھا۔
اگست میں اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک خط لکھا، جس میں انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کیا جائے اور سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے دو نئے ارکان بھی مقرر کیے جائیں۔
اسی طرح، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے بھی حال ہی میں سیاسی اتحاد اور استحکام کی ضرورت پر زور دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرے۔
حالیہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران صادق نے سیاسی اتحاد اور استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف پر زور دیا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات شروع کریں اور نئے چیف الیکشن کمشنر (CEC) کی تقرری کے لیے مشاورت کا آغاز اچکزئی کو دعوت دے کر کریں۔
دریں اثنا، الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے ملک میں ہونے والے آئندہ انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ کمیشن ملک بھر میں انتخابی عملے کا ڈیٹا بیس اپ ڈیٹ کرنے پر کام کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں موجود پولنگ اسٹیشنز کی موجودہ فہرست کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر، الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے انتخابات سے تقریباً دو سال پہلے ہی انتخابی عملے کا ڈیٹا تیار اور اپ ڈیٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنرز کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ ملک بھر میں انتخابی امور انجام دینے والے حکام کے ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کرنے کا عمل شروع کیا جائے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے صوبائی حکام نے ضلعی الیکشن کمشنرز کو انتخابی عملے کے ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس مقصد کے لیے کمیشن نے تمام سرکاری محکموں میں کام کرنے والے افسران اور دیگر سرکاری ملازمین کا ریکارڈ بھی جمع کرنے کا حکم دیا ہے۔