پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے اعتراض کے بعد نظرثانی درخواست واپس لے لی، عمران خان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو جمعہ کی صبح سویرے اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ یہ منتقلی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد کی گئی، جس میں انہیں طبی علاج فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

عمران کا قافلہ سخت سیکیورٹی انتظامات کے ساتھ آدھی رات کے قریب اڈیالہ جیل سے روانہ ہوا۔ شفاہ انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار اور سیکیورٹی عملہ تعینات کیا گیا، کیونکہ سپریم کورٹ کی جانب سے عمران کو ہسپتال منتقل کرنے کی مقرر کردہ آخری مہلت آدھی رات کو ختم ہو گئی تھی۔

عدالت نے منگل کے روز حکم دیا کہ عمران کو چند دنوں کے لیے طبی علاج کی غرض سے اسپتال منتقل کیا جائے۔ عدالت نے حکومت کو یہ بھی ہدایت دی کہ عمران اور ان کے خاندان کے افراد کے درمیان ہفتہ وار ملاقاتوں کا انتظام کیا جائے۔ بعد میں حکومت نے اس حکم کو غیر منصفانہ اور امتیازی قرار دیتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

عمران کو طبی معائنے اور مناسب علاج کے لیے چکری کے راستے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پولیس نے ہسپتال اور اس کے قریبی علاقوں کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا۔ ہسپتال سے منسلک کئی سڑکوں کو عارضی طور پر خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا، جبکہ بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ کسی بھی غیر مجاز شخص کو ہسپتال کے علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اسلام آباد پولیس چیف اور سینئر افسران آدھی رات سے پہلے ہسپتال کے باہر موجود تھے تاکہ سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے سکیں اور صورتحال کی نگرانی کر سکیں۔

عمران کی بہن علیمہ خانم بھی ان کی روانگی سے پہلے اڈیالہ جیل پہنچ گئیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ اور علاج جلد ہی ان کے خاندان کے افراد اور ذاتی ڈاکٹروں کی موجودگی میں کیا جائے گا۔

تاہم، انہوں نے کہا کہ رکنے یا آرام کرنے کا کوئی وقت نہیں ہے۔ یہ کامیابی صرف اس سفر کی شروعات ہے۔ اگلا مرحلہ مشکل ہوگا، لیکن اسے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں عمران خان، بشریٰ بی بی، رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے انصاف کی جدوجہد جاری رکھنی ہوگی اور انہیں ناانصافی پر مبنی قید سے آزاد کروانا ہوگا۔

پی ٹی آئی رہنما وقاص اکرم نے کہا کہ عمران خان کی صحت ایک عام ملاقات یا صرف جھلک دیکھنے سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ان کے علاج میں تعاون کریں اور طبی دیکھ بھال میں کوئی مسئلہ پیدا نہ کریں۔

پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت، عمران خان کے خاندان اور پارٹی کی کور کمیٹی کے درمیان تفصیلی مشاورت کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کو شفہ انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد کوئی بھی پی ٹی آئی کارکن اسپتال کے باہر جمع نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے خلاف جو شخص بھی اسپتال کے باہر جمع ہونے کی کوشش کرے گا، اسے پی ٹی آئی کا کارکن نہیں سمجھا جائے گا اور نہ ہی اس کا پارٹی سے کوئی تعلق تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ نظم و ضبط برقرار رکھیں، ہسپتال کے باہر جمع ہونے سے گریز کریں، اور عمران کی اچھی صحت اور جلد صحت یابی کے لیے دعا کریں۔

قانون کے وزیر اعظم نذیر تارڑ نے پہلے کہا تھا کہ حکومت کے پاس عمران کو منتقل کرنے کے لیے آدھی رات تک کا وقت تھا۔ انہوں نے کہا کہ منتقلی کی ذمہ داری اسلام آباد انتظامیہ پر تھی اور وہ اسے مکمل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی تھی۔

سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر سرکاری اسپتالوں میں پی ٹی آئی کے بانی کے لیے ضروری علاج اور مناسب طبی سہولیات دستیاب نہ ہوں تو حکومت انہیں شفا انٹرنیشنل اسپتال یا کسی دوسرے ایسے اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کرنے کی پابند ہوگی جہاں مطلوبہ طبی سہولیات اور علاج کی مکمل سہولت موجود ہو۔

سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف راجا ناصر عباس کی جانب سے اٹھائے گئے پوائنٹ آف آرڈر کا جواب دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ حکومت پی ٹی آئی کے بانی کو ضروری طبی علاج فراہم کرنے کی مخالفت کرنے یا اس عمل میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے گا اور اسے مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا۔

فاضل نے کہا کہ موجودہ قوانین کے تحت سزا یافتہ قیدیوں کو سرکاری اسپتالوں میں طبی علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ اس قانونی معاملے کا جائزہ لے رہی ہے کہ طبی سہولیات اور علاج کا یہ انتظام کس حد تک لاگو کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ مطلوبہ علاج موجودہ نظام سے باہر فراہم کیا جا سکتا ہے تو حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرے گی۔


X