پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائزز کو ٹورنامنٹ کے 12ویں ایڈیشن کے لیے زیادہ سے زیادہ سات کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کی اجازت ہوگی، جن میں ایک براہِ راست سائننگ بھی شامل ہوگی۔ تاہم، جو ٹیم تمام سات کھلاڑیوںکو برقرار رکھنے کا فیصلہ کرے گی، اسے گزشتہ نیلامی کے سب سے زیادہ معاوضے والے کیٹیگری کے ایک کھلاڑی کو ریلیز کرکے عام کھلاڑیوں کے پول میں شامل کرنا ہوگا۔
جمعرات کو قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے انتظامی اجلاس کے دوران پی ایس ایل کی تمام آٹھ فرنچائزز نے متفقہ طور پر اس قانون کی منظوری دے دی۔ یہ پی ایس ایل 12 کی پلیئرز نیلامی سے قبل حتمی شکل دیے جانے والے اہم قوانین میں سے ایک ہے، جو 23 جنوری کو منعقد ہوگی۔
ہر ٹیم کے لیے ایک اہم کھلاڑی کو ریلیز کرنا لازمی قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ نیلامی کے دوران تمام فرنچائزز کو بہترین کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم میں شامل کرنے کا یکساں موقع مل سکے، جبکہ ٹیمیں اپنے موجودہ زیادہ تر کھلاڑیوں کو برقرار بھی رکھ سکیں۔
فرنچائزز کے پاس کھلاڑیوں کو اپنی ٹیموں میں برقرار رکھنے کے لیے 13 جنوری تک کا وقت ہوگا، جو نیلامی سے 10 دن پہلے کی تاریخ ہے۔ اس سے ٹیموں کو حتمی فیصلے سے قبل نیشنل ٹی 20 سلور ٹورنامنٹ، جو اس وقت تک ختم ہو چکا ہوگا، اور جاری نیشنل ٹی 20 گولڈ ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا موقع ملے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کہا کہ اس معاہدے سے ڈومیسٹک کرکٹ اور پی ایس ایل کے درمیان براہِ راست ڈیٹا پر مبنی رابطہ قائم ہوگا، جس سے نیشنل ٹی 20 ٹورنامنٹس میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو پی ایس ایل فرنچائزز کی توجہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
پی سی بی کے مطابق، نیشنل ٹی 20 گولڈ ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے سے کسی بھی مقامی کھلاڑی کو فرنچائز ٹیموں کی توجہ حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
پی ایس ایل کی تاریخ میں دوسری بار ہونے والی اس نیلامی میں ہر ٹیم کے لیے 45 کروڑ روپے کا بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم، پی ایس ایل 12 کے لیے براہِ راست کھلاڑی منتخب کرنے، گزشتہ سیزن کے کسی کھلاڑی کو برقرار رکھنے یا دونوں سہولتیں استعمال کرنے والی ٹیموں کا بجٹ بڑھ کر 50 کروڑ 50 لاکھ روپے ہوجائے گا۔
تمام فرنچائزز کو اپنی ٹیمیں بنانے کے لیے کم از کم 36 کروڑ 50 لاکھ روپے بھی خرچ کرنے ہوں گے۔
براہِ راست کھلاڑیوں سے معاہدے کرنے کا عمل 23 نومبر 2026 تک جاری رہے گا۔ اس دوران ہر فرنچائز کو ایک ایسے اسٹار کھلاڑی سے براہِ راست معاہدہ کرنے کی اجازت ہوگی جس نے نہ تو PSL 10 اور نہ ہی PSL 11 میں حصہ لیا ہو۔
یہ قوانین پاکستان سپر لیگ (PSL) کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر کی زیر صدارت منعقدہ ایک ورکشاپ کے دوران حتمی شکل دیے گئے، جہاں تمام آٹھ فرنچائزز نے ہر شق کا ایک ایک کرکے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد نیلامی کے قواعد پر متفقہ طور پر اتفاق کیا۔
بات چیت میں کھلاڑیوں کی براہِ راست شمولیت، برقرار رکھنے، ٹریڈنگ کے اوقات، ٹیموں کے اسکواڈ اور تنخواہوں کی حد پر بھی گفتگو ہوئی۔
نصیر نے کہا کہ اس دن کو خاص بنانے والی بات صرف یہ نہیں تھی کہ کن باتوں پر اتفاق ہوا، بلکہ یہ بھی اہم تھا کہ یہ معاہدہ کس طرح طے پایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام فرنچائزز نے اس عمل میں مکمل شفافیت کے ساتھ حصہ لیا۔ نیلامی کے قواعد پر ہر نکتے کے حوالے سے تفصیل سے بات چیت کی گئی اور تمام آٹھ ٹیموں نے حتمی فیصلے سے اتفاق کیا۔
نصیر نے کہا کہ کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کی آخری تاریخ جان بوجھ کر نیشنل ٹی 20 مقابلوں کے شیڈول کے مطابق رکھی گئی ہے تاکہ ڈومیسٹک کھلاڑیوں کو ٹورنامنٹ میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر فرنچائز ٹیموں میں جگہ حاصل کرنے کا منصفانہ موقع مل سکے۔
پی سی بی نے بتایا ہے کہ پی ایس ایل 12 کے حوالے سے مزید اہم اعلانات آنے والے ہفتوں میں کیے جائیں گے۔