اسلام آباد: سپریم کورٹ نے غیر ضروری طور پر بار بار مقدمات کی سماعت ملتوی کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کی وجہ سے دیوانی مقدمات میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
وکلاء برادری سے وابستہ افراد کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں کافی زیادہ ہوتی ہیں اور انہیں ایک ہی دن مختلف عدالتوں یا دیگر قانونی فورمز کے سامنے پیش ہونا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، ہر وکیل کی بنیادی ذمہ داری اپنے مؤکل، عدالت اور انصاف کی درست فراہمی کے نظام کے ساتھ ہوتی ہے۔ کسی مقدمے کی پیروی قبول کرنے کے بعد وکیل کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہ مقدمے پر مکمل توجہ دے، خاص طور پر ایسے اہم عدالتی مراحل کے دوران جن میں شہادتیں ریکارڈ کی جانی ہوں۔ جسٹس شاہد بلال حسن نے ایک سول مقدمے کی سماعت کے دوران 10 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں یہ اہم observations بیان کیے۔
عدالت نے کہا کہ صرف یہ کہنا کہ وکیل کسی اعلیٰ عدالت میں مصروف ہے، اپنے آپ میں ایک درست اور قابلِ قبول وجہ نہیں مانی جا سکتی۔
عدالت نے کہا کہ اعلیٰ عدالتیں عام طور پر اپنے زیادہ تر اہم عدالتی کام دفتری اوقات ختم ہونے سے پہلے مکمل کر لیتی ہیں۔ اس طرح وکلا کو ماتحت عدالتوں میں پیش ہونے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے کافی وقت مل جاتاہے۔ تاہم، ٹرائل عدالتیں عام طور پر پورے دفتری وقت کے دوران اپنی کارروائی جاری رکھتی ہیں۔ اس لیے وکلا کے پاس اعلیٰ عدالتوں میں اپنے مقدمات سے متعلق معاملات مکمل کرنے کے بعد ماتحت عدالتوں میں پیش ہونے کے لیے عموماً کافی وقت ہوتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک وکیل کو صرف اتنے ہی مقدمات قبول کرنے چاہییں جنہیں وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت، مناسب توجہ اور مؤکل کے مفادات کے لیے مکمل وابستگی کے ساتھ اچھی طرح سنبھال سکے۔ بہت زیادہ مقدمات قبول کرنا اس بات کا قابلِ قبول جواز نہیں ہونا چاہیے کہ وکیل بار بار عدالتی کارروائی میں تاخیر یا رکاوٹ کا باعث بنے۔
جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے مشاہدہ کیا کہ اس طریقہ کار کا ’’بدقسمت نتیجہ‘‘ شاذ و نادر ہی اس وکیل کو بھگتنا پڑتا ہے جو اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہتا ہے۔