ایران کا دورہ: فیلڈ مارشل کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقاتیں

اسلام آباد/تہران (نوائے وقت رپورٹ + آئی این پی + این این آئی): فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔ منگل، 20 اکتوبر 2026 کو سید عاصم منیر نے تہران میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس ملاقات میں ان کے ہمراہ تھے۔

ایران کی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کی قیادت کی۔ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، خطے کی تازہ صورتحال، سفارتی کوششوں، علاقائی کشیدگی میں کمی اور مختلف عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ارنا کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ابتدائی ملاقات کی۔ اس سے قبل ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے بتایا تھا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستانی حکام کے ایک وفد کے ساتھ منگل کو تہران پہنچے، جہاں وہ ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

پاکستان کے آرمی چیف اور وزیر داخلہ نے منگل کو تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ اس سے ایک روز قبل فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر نے وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت ایک وفد کے ہمراہ تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی تھی۔

ارنا کے مطابق، پاکستان کے آرمی چیف منگل، 20 اکتوبر 2026 کی سہ پہر ایک سفارتی وفد کی قیادت کرتے ہوئے تہران پہنچے۔ اس دورے کا مقصد ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات اور مشاورت کرنا تھا۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال، سفارتی کوششوں، علاقائی کشیدگی میں کمی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت شامل تھی۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے واضح کیا ہے کہ افزودہ جوہری مواد ایران کے اندر ہی رہے گا اور اس کا معمولی سا حصہ بھی ملک سے باہر نہیں لے جایا جائے گا۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری بریگیڈیئر جنرل محسن رضائی نے منگل، 20 اکتوبر کو پاکستان کے آرمی چیف سید عاصم منیر سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں افزودہ کیا گیا تمام جوہری مواد ملک کے اندر ہی رہے گا اور اس کا معمولی سا حصہ بھی بیرون ملک نہیں لے جایا جائے گا۔

ارنا کے مطابق، انہوں نے کہا کہ افزودہ جوہری مواد ایرانی عوام کا ایک اہم اثاثہ اور قومی وسیلہ ہے، جسے ملک کے اندر ہی استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام اور حکام اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ جب تک امریکا اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات نہیں کرتا، مذاکرات نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اعتماد بحال کرنے کا عمل اس وقت شروع ہوگا جب ایران کی شرائط پوری کی جائیں گی۔

محسن رضائی نے ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان برادرانہ تعلقات کو بھی اجاگر کیا۔

ملاقات کے دوران پاکستان کے آرمی چیف سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان سرحد کا مسئلہ حل ہو چکا ہے اور سرحد گزشتہ صبح دوبارہ کھول دی گئی تھی۔

X