خلاصہ
پاکستان آج مشہور قوال استاد نصرت فتح علی خان کی 78ویں سالگرہ منا رہا ہے، جن کی روح پرور آواز نے دنیا بھر کے لوگوں کے دل جیت لیے۔
فیصل آباد (دنیا نیوز) – پاکستان کے مشہور قوال استاد نصرت فتح علی خان کی 78ویں سالگرہ منگل، 13 اکتوبر کو منائی جا رہی ہے۔ انہیں ’’شہنشاہِ قوالی‘‘ کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ استاد نصرت فتح علی خان نے اپنی بے مثال آواز اور فن کے ذریعے قوالی کو دنیا بھر میں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ موسیقی کی دنیا میں ان کی عظیم خدمات کے اعتراف میں انہیں آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنی طاقتور آواز، دل کو چھو لینے والی گائیکی اور روایتی قوالی کو جدید موسیقی کے انداز میں پیش کرنے کے منفرد طریقے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوئے۔ ان کی گائیکی نے انہیں عالمی سطح پر پہچان دلائی اور وہ قوالی کی دنیا کے نامور فنکاروں میں شمار ہونے لگے۔
نصرت فتح علی خان کا تعلق موسیقی کے ایک مشہور گھرانے سے تھا۔ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد استاد فتح علی خان سے حاصل کی۔ کئی سال کی محنت، مسلسل مشق اور اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی بدولت انہوں نے روایتی صوفی موسیقی کو ایک مقبول فن بنا دیا، جسے دنیا بھر میں پہچانا گیا اور لوگوں نے بے حد پسند کیا۔
ان کی طاقتور آواز گہرے جذبات، روحانی کیفیت اور آواز کے مختلف سروں پر مہارت کی وجہ سے مشہور تھی، جس نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے لوگوں کے دل جیت لیے۔ ان کی گائیکی نے زبان اور ثقافت کی سرحدوں کو عبور کیا اور مختلف ممالک کے لوگوں کو جنوبی ایشیا کی روحانی موسیقی اور قوالی کی خوبصورتی سے روشناس کرایا۔ ان کی پُراثر آواز اور منفرد انداز نے دنیا بھر میں سننے والوں کو متاثر کیا۔
ان کی سب سے مشہور قوالیوں میں ’’دم مست قلندر‘‘، ’’میرا پیا گھر آیا‘‘ اور ’’یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے‘‘ شامل ہیں۔ یہ مشہور قوالیاں آج بھی سننے والوں کے دل جیت رہی ہیں، جبکہ ان کے گائے ہوئے گیت اور غزلیں پاکستان کے موسیقی کے ورثے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کی منفرد آواز اور گائیکی کا انداز آج بھی لوگوں میں مقبول ہے اور ان کا فن دنیا بھر میں ان کی پہچان بنا ہوا ہے۔
نصرت فتح علی خان نے دنیا بھر میں قوالی کو متعارف کرانے اور اسے عالمی سطح پر مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے موسیقاروں کے ساتھ مل کر کام کیا اور موسیقی کے نئے انداز بھی آزمائے، لیکن ان تمام تجربات کے باوجود قوالی کی روحانی اہمیت، روایتی انداز اور اصل پہچان کو ہمیشہ برقرار رکھا۔
اپنی موسیقی میں کامیابی کی بدولت وہ عالمی موسیقی کی دنیا کی مشہور ترین آوازوں میں شامل ہوئے۔ ان کی گائیکی نے قوالی کو اس کی روایتی حدود سے نکال کر دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں کئی ممالک میں مداحوں کی محبت ملی اور انہوں نے مختلف طرز کی موسیقی سے تعلق رکھنے والے گلوکاروں اور موسیقاروں کو بھی متاثر کیا۔
اگرچہ نصرت فتح علی خان 16 اگست 1997 کو 48 سال کی عمر میں انتقال کر گئے، لیکن ان کی موسیقی کا ورثہ آج بھی زندہ ہے۔ ان کے گانے آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں اور جدید موسیقی پر ان کا اثر آج بھی برقرار ہے۔