وہی جو اوپر گزرا۔ اتنا زیادہ ہے کہ ”میں اس کو چھوڑ دیتا ہوں جب تک وہ اچھی ہو۔“ (یعنی نفاس سے صاف ہو یہی حکم ہے مریضہ کا اس کو بھی حد نہ ماریں گے جب تک تندرست نہ ہو)۔
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ السُّدِّيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ ، وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ اتْرُكْهَا حَتَّى تَمَاثَلَ .