لاہور: گزشتہ ہفتے بھی صارفین کو اشیائے خورونوش کی بلند قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ کئی ضروری اور جلد خراب ہونے والی اشیاء کی سرکاری قیمتوں میں کمی کے باوجود ان کی پرچون قیمتیں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں سے کہیں زیادہ رہیں۔
سرکاری اور مارکیٹ کی قیمتوں میں فرق خاص طور پر سبزیوں، پھلوں اور مرغی کے گوشت میں واضح رہا، کیونکہ صارفین نے حکام کی مقرر کردہ قیمتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ قیمتیں ادا کیں۔
پولٹری مارکیٹ میں زندہ مرغی کی سرکاری قیمت 15 روپے فی کلو کم ہو کر 304 سے 318 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ مرغی کے گوشت کی قیمت میں 22 روپے کمی کے بعد یہ 461 روپے فی کلو ہوگئی۔ تاہم، شہر بھر کی مارکیٹوں میں مرغی کا گوشت 520 سے 570 روپے فی کلو فروخت ہوتا رہا۔
کئی سبزیوں کی سرکاری قیمتوں میں کمی ہوئی، جبکہ کچھ دیگر سبزیوں کی قیمتیں بڑھ گئیں۔
سرکاری طور پر شوگر فری آلو کی قیمت میں 2 روپے فی کلو کمی کرکے اسے 27 سے 30 روپے فی کلو مقرر کیا گیا، لیکن مارکیٹ میں یہ 50 سے 70 روپے فی کلو فروخت ہوتے رہے۔ اسی طرح ٹماٹر کی سرکاری قیمت میں بھی 5 روپے فی کلو کمی کرکے اسے 130 سے 180 روپے فی کلو مقرر کیا گیا، تاہم دکانداروں نے ٹماٹر 250 سے 300 روپے فی کلو فروخت کیے۔
پیاز کی سرکاری قیمت 45 روپے فی کلو کم ہو کر 165 سے 175 روپے رہ گئی، لیکن دکاندار اسے 200 سے 220 روپے فی کلو فروخت کر رہے تھے۔ مقامی لہسن کی قیمت 157 سے 165 روپے فی کلو رہی، جبکہ اس کی خوردہ قیمت 200 سے 250 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ تھائی ادرک 5 روپے سستا ہو کر 315 سے 330 روپے فی کلو ہو گیا، جبکہ چینی ادرک کی قیمت 305 سے 320 روپے فی کلو برقرار رہی۔ تاہم، دکاندار دونوں اقسام کی ادرک 400 سے 450 روپے فی کلو فروخت کر رہے تھے۔
سرکاری قیمت فہرست میں کھیرے کی قیمت 10 روپے کم ہو کر 85 سے 90 روپے فی کلو ہوگئی، لیکن مارکیٹ میں یہ 120 سے 150 روپے فی کلو فروخت ہوئے۔
پالک کی قیمت میں 10 روپے کمی کے بعد یہ 57 سے 60 روپے فی کلو ہوگئی، لیکن صارفین کو یہ اب بھی 100 سے 120 روپے فی کلو میں دستیاب تھی۔
لیموں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ مقامی لیموں 45 روپے بڑھ کر 180 سے 190 روپے فی کلو ہوگئے، جبکہ 300 سے 350 روپے میں فروخت ہوئے۔ چینی لیموں 25 روپے بڑھ کر 105 سے 110 روپے اور ریٹیل میں 180 سے 200 روپے فی کلو ہوگئے۔
کدو کی قیمت 10 روپے کم ہو کر 142 سے 150 روپے فی کلو، جبکہ بھنڈی کی قیمت 30 روپے کم ہو کر 172 سے 180 روپے فی کلو ہوگئی۔ دکاندار کدو 180 سے 200 اور بھنڈی 200 سے 250 روپے فی کلو فروخت کرتے رہے۔
ہری مرچ کی قیمت 20 روپے بڑھ کر 115 سے 120 روپے فی کلو ہوگئی، جبکہ 180 سے 220 روپے میں فروخت ہوئی۔ شملہ مرچ 10 روپے کم ہوکر 247 سے 260 روپے رہی، جبکہ 320 سے 380 روپے میں فروخت ہوئی۔
پھلوں کی قیمتیں بھی بلند رہیں۔ سیب کی قیمت میں 85 روپے فی کلو اضافہ ہوا، سرکاری قیمت 200 سے 395 روپے جبکہ دکانوں پر 300 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت ہوئے۔ اے گریڈ کیلے 170 سے 190 روپے درجن کے بجائے 250 سے 300 روپے میں فروخت ہوئے۔
کھجور کی سرکاری اور مارکیٹ قیمتوں میں سب سے زیادہ فرق دیکھا گیا۔ سرکاری قیمت 310 سے 435 روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی، لیکن دکاندار کھجور 800 سے 2,400 روپے فی کلو تک فروخت کر رہے تھے۔
مقامی انار کی قیمت 20 روپے بڑھ کر 305 سے 320 روپے ہوگئی، لیکن فروخت 450 سے 600 روپے میں ہوئی۔ قندھاری انار کی سرکاری قیمت 315 سے 330 روپے تھی، مگر یہ 600 سے 800 روپے میں فروخت ہوئے۔ گولا انگور 272 سے 285 روپے فی کلو مقرر تھے، لیکن 400 سے 500 روپے میں فروخت ہوئے۔ سندر خانی انگور 567 سے 595 روپے مقرر تھے، جبکہ 700 سے 800 روپے میں فروخت ہوئے۔ جاپانی پھل 181 سے 190 روپے فی کلو مقرر تھا، مگر 300 سے 350 روپے میں فروخت ہوا۔
کئی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں سرکاری طور پر کمی کے باوجود صارفین کو مارکیٹ میں ابھی تک اسی طرح کا ریلیف نہیں مل سکا۔